کاروار:27/مارچ(ایس اؤنیوز) یلاپور تعلقہ کی اریبیل گھاٹ پرملی کاروار کاجو باغ کے ایاز شیخ کی ہلاکت کامعمہ حل نہیں ہو ا ہے البتہ اپنے دوست آشیس رنجن نے حصص داری میں لگائی گئی رقم کو لے کر ایاز اپنے دوست کے ساتھ چلا گیا تھا جس کے 13دن بعد پہلے اشیش کی نعش پھر کچھ دنوں بعد آیاز کینعش کی دو مختلف علاقوں سے برآمد ہوئی ہے۔
خبر ملی ہے کہ کاروار کے گرین اسٹریٹ میں موبائیل دکان کے مالک ایاز اپنے دو ماہ پرانے دوست رانچی کے رہنے والے مگر گوامیں رہائش پذیر آشیش رنجن کے ساتھ کوئی بزنس شروع کیا تھا، بتایا گیا ہے کہ آشیش نے جو رقم اپنے کسی دوست کے پاس سرمایہ کاری کی تھی اس کو واپس حاصل کرنے کے لئے اُس نے ایاز کا تعاون لیا تھا، یہاں راز کی بات یہ ہے کہ آشیش کا کونسابزنس تھا کیا معاملہ کرتاتھا وہ صرف ایاز جانتاتھا۔ بتایا گیا ہے کہ آیاز نے اپنی ماں کو بتایا تھا کہ ایک شخص نےاُس کے دوست آشیش کی رقم لی ہے مگر وہ واپس لوٹا نہیں رہا ہے۔ جس سے اُس کے دوست کو کافی نقصان ہورہا ہے۔
اس دوران آیاز 6مار چ کوگھر سے نکلا تھا، پھر واپس لوٹ کر نہیں آیا۔ 6مارچ کی رات کو 8بجے آیاز نے اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اشیش کے ساتھ ہے ، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ موبائیل پر بات کررہا ہے اس لئے آپ سے مزید بات نہیں کرسکے گا ، لیکن ایاز کی ماں زاہدہ عبداللہ شیخ نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ جس وقت وہ موبائیل پر بات کررہا تھا، اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ بہت زیادہ خوف زدہ ہے ۔ اس نے اپنے بیٹے ایاز کے ساتھ اس کے دوست آشیش کی بھی لاش برآمد ہونے پر بتایا کہ یہ دونوں قتل رقم کو لے کر ہی کئے گئے ہیں۔ 7مارچ کو موبائیل کے ذریعے جب ایازسے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو موبائل آوٹ آف کوریج ائیریا بتانے لگا تھا، جبکہ آشیش کا موبائیل سوئچ آف بتارہا تھا، آیاز کی والدہ نے بتایا کہ اس دن سے لگاتار دونوں موبائیل پر رابطہ کرنے کی ہردن کوشش کی گئی لیکن کبھی رابطہ نہیں ہوسکا۔ جب دونوں سے بات ہونا ممکن نہیں ہوپارہاتھا تو آشیش کی بیوی سے رابطہ کرکے حال پوچھاگیا تو وہاں سے بھی بتایا گیا کہ آشیش کا موبائیل رابطہ میں نہیں ہے، وہاں سے دی گئی صلاح کے مطابق 15مار چ کو کاروار شہری پولس تھانے میں شکایت درج کی گئی ۔
خبر ملی ہے کہ ایاز نے بنگلورو سے تعلق سے رکھنے والی ایک لڑکی کے ساتھ شادی رچائی تھی، مگر گذشتہ ایک سال سے وہ عدالت میں طلاق کے لئے درخواست دی تھی۔ طلاق کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر بحث ہے، بتایا گیا ہے کہ ایاز کی بیوی بھی 1لاکھ روپئے کے معاوضے کی مانگ لےکر بار بار دھمکی دے رہی تھی جس کودیکھتے ہوئے ایاز نے اسے رقم بھی دی تھی، رقم دینے کے بعد سے اس کی بیوی کی طرف سے کوئی دھمکی یا فون نہیں آیا تھا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق گواکے مکین آشیش سے ایاز کی دوستی صرف 2مہینے پہلے شروع ہوئی تھی۔ ایک مقامی دوست نے ایاز کا آشیش سے تعارف کرایا تھا، البتہ اس بات کا پتہ نہیں چل پایا ہے کہ وہ تیسرا شخص کون ہے جس نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے ملایا تھا۔ اس طرح ایاز اور آشیش کی دوستی بڑی مضبوط ہوگئی تھی، جس کے نتیجےمیں ایاز کبھی کبھی کاروار آیا کرتاتھااور چند ایک مرتبہ ایاز کے گھر بھی جاکر گھروالوں سے مل لیا کرتاتھااور کہا کرتا تھا کہ ایاز بھروسہ مند دوست ہے ۔ اشیش نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ اپنے تمام معاملات آیاز ہی دیکھے گا۔ آشیش کے بیٹے کے جنم دن کے موقع پر ایاز ایک دن گوا میں اس کے گھر قیام بھی کرچکا تھا۔ اس بات کی بھی خبر ملی ہے کہ آشیش کی بیوی گوا میں چارٹیڈاکاؤنٹنٹ ہے، لیکن یہ سچ ہے یا جھوٹ اس کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔
گوا کا آشیش اور کاروار کا ایاز دونوں ہلاک ہوچکے ہیں، یلاپور کے اریبیل گھاٹ پر ایاز کی نعش اور وہاں سے 25کلومیٹر دور یعنی انکولہ کےسونکسال میں آشیش کی نعش دستیاب ہوئی ہے۔ پولس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ آیاز اور آشیش کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے والا کون تھا، سمجھا جارہا ہے کہ اگر اُس تیسرے شخص کا پتہ چل گیا تو اس دُوہرے قتل کی گتھی کو سلجھانے میں کافی آسانی ہوگی۔
اسی نیوز کے تعلق سے پہلے شائع شدہ رپورٹ: